کیا آپ دنیا کی قدیم ترین یونیورسٹی کون سی ہے 72

دنیا کی قدیم ترین یونیورسٹی کون سی ہے

آپ جانتے ہیں دنیا کی قدیم ترین یونیورسٹی کون سی ہے دنیا کی قدیم ترین یونیورسٹی کون سی ہے

کیا آپ جانتے ہیں کہ دنیا کی قدیم ترین یونیورسٹی کون سی ہے، جو آج تک بغیر کسی تعطل کے تعلیم و تعلم کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے؟؟؟


آپ کا جواب یا تو برطانیہ کی کیمبرج یونیورسٹی ہو گا یا برطانیہ کی ہی آکسفورڈ یونیورسٹی ہو گا۔
اور اگر آپ اسلامی تعلیمی اداروں سے تھوڑی واقفیت رکھتے ہیں تو آپ کا جواب مصر کی مشہور یونیورسٹی “جامعہ الازہر” ہو گا۔


لیکن آپ کو یہ جان کر حیرانگی و تعجب ہو گا کہ یہ تینوں یونیورسٹیز قدیم ترین یونییورسٹیز نہیں ہیں،
بلکہ گینیز بک آف ورلڈ ریکارڈ کے مطابق یہ اعزاز ایک دوسری مسلم یونیورسٹی “جامعہ القرویین” کو حاصل ہے۔

جامعہ القرویین دنیا کی قدیم ترین یونیورسٹی کے چند مناظر
جامعہ القرویین دنیا کی قدیم ترین یونیورسٹی کے چند مناظر

“جامعہ القرویین” مسلم افریقی ملک “مراکش” کے شہر “فاس” میں واقع ہے۔


“جامعہ القرویین” 859 عیسوی میں ایک مسلم خاتون “فاطمہ الفہری” نے قائم کی تھی۔
“فاطمہ الفہری” کی بہن “مریم الفہری” نے مسجد قائم کی اور فاطمہ نے مسجد کے ساتھ مدرسہ قائم کیا جو وقت کے ساتھ ساتھ ترقی کرتا ہوا ایک عطیم الشان جامعہ بن گیا۔


یہ جامعہ تقریبا 18 سال میں مکمل ہوئی، اور اس سارے وقت میں “فاطمہ الفہری” اکژ رازے سے ہوتیں تھیں۔
قرویین یونیورسٹی نے 861ء میں اپنے کام کا آغاز کیا اور اسےےدنیا کے ایسے پہلے ادارے کا اعزاز حاصل ہے جو تعلیمی اسناد جاری کرتا ہے۔

1300ء میں اس یونیورسٹی میں لائبریری کی تعمیر کی گئی ۔اور اس میں قائم شدہ لائبریری بھی دنیا کی قدیم لائبریروں میں شامل ہوتی ہے۔اس لائبریری میں 4000 سے زائد قلمی نسخے موجود ہیں جن میں سے اکثر کا تعلق نویں صدی سے ہے۔انھیں نسخوں میں ایک نسخہ احاديث کا ہے جسے سب سے پرانا نسخہ خیال کیا جاتا ہے۔موتا امام مالک کا نسخہ ،ابن خلدون کی کتاب کتاب العبر کا اصلی نسخہ، بھی اس لائبریری میں محفوظ ہیں۔۔۔


جامعہ القرویین میں قران،حدیث،فقہ،قانون،فلکیات،میڈیسنز،ریاضی،کیمسٹری،تاریخ اور عربی گرائمر کی تعلیم دی جاتی تھی۔


بہت سے مشہور اور نامور فلاسفر،تاریخ دان اور سائنسدان اسی ادارے سےفارغ التحصیل تھے۔اس یونیورسٹی سے فارغ التحصیل یورپی طالب علم گربرٹ جو بعد میں پوپ سلویسٹر دوئم کے نام سے مشہور ہوئے۔یہی تھے جنھوں نے یورپ میں زیرو کے ہندسے کو متعارف کروایا۔۔اور بہت سے اور عربی ہندسے بھی بھی متعارف کروائے ۔۔مشہور یہودی فلاسفر ،طبیب ،ماہر فلکیات موسی بن میمون بھی اسی جامعہ سے پڑھے ہوئے تھے۔۔
اس کے علاوہ مشہور تاریخ دان ابن خلدون،مشہور فلاسفر ابن رشد،اور بہت سے نامور عالم اس جامعہ سے فارغ التحصیل تھے جن میں ابو العباس،ابن العربی اور ال بیتروجی جیسا فلکیات دان بھی شامل ہیں۔۔حسن ابن محمد الوزان جسے یورپ میں لیوافریقانس کے نام سے جانا جاتا ہے اس جامعہ کےطالب علم رہے۔۔ معۃ القیروان کو بحیرہ روم کا سب بڑا علمی مرکز قرار دیا گیا ہے۔یہاں تک کہ یورپ کو صفر اورباقی عربی اعداد سے متعارف کروانے والے پاپائے روم پوپ سلوسٹر ثانی نے بھی یہیں سے تعلیم حاصل کی.
یہ مسجد اور جامعہ مسلم خواتین کا مسلم معاشرے میں کردار اور مسلم قربانی کا ایک منہ بولتا ثبوت ہے، آج غیر مسلم لوگ مسلمانوں پہ تنگ نظری اور عورت کے حقوق نہ دینے کا الزام لگاتے ہیں، یہ جامعہ و مسجد اُن کے منہ پر اک کرارہ تمانچہ ہے۔


یہاں امام مالک کی فقہہ کے ماننے والے بڑی تعداد میں موجود ہیں۔

یہاں قرآن اور فقہہ کے ساتھ ساتھ “صرف و نحو”، فلسفہ، منطق، ادویات، فلکیات، طبیعات، ریاضیات، کیمیا، تاریخ و جغرافیہ کی تعلیم بھی دی جاتی تھی۔
یہ کوئی عام سی یا چھوٹی موٹی یونیورسٹی نہیں تھی ، اس میں اپنے وقت کے مشہور و معروف لوگوں نے تعلیم حاصل کی، جنہوں نے اس جامعہ سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد بہت نام پیدا کیا۔
ان میں مشہور مسلمان مورخ “ابن الخلدون”، مسلم جغرافیہ دان “محمد الادریسی”، یہودی فلسفی “موسیٰ بن میمون” شامل ہیں۔
ایک عیسائی پوپ “سلوسٹر ثانی” جس نے یورپ میں عربی ہندسے اور صفر کا ہندسہ متعارف کروایا، وہ بھی اسی جامعہ کا تعلیم یافتہ تھا۔
یہاں تقریبا 4000 ایسی دستاویزات و مخطوطے موجود ہیں جو دنیا میں اور کسی جگہ نہیں ہیں۔
ایک عرصے تک یہ جامعہ افریقہ اور یورپ میں علم کا مرکز رہی ہے۔
آج بھی یہ جامعہ اپنا علمی سفر جاری رکھے ہوئے ہے اور علم کے متلاشیوں کی پایس بجھا رہی ہے۔
جامعہ میں آج بھی بیرونِ ملک سے ہزاروں طالبعلم پڑھنے آتے ہیں۔
اطمہ کا سال پیدائش 800 ہے اور سال وفات 880ء بتایا جاتا ہے۔

https://www.skyurdunews.com/maqbool-butt/۔۔
فاطمہ الفہری کا کردار مسلمان خواتین کے لیے ایک اعلی مثال کا حامل ہے ۔۔اور اس کے ساتھ ساتھ یہ نام نہاد مغربی لوگوں کے اس پروپیگنڈہ کا بھی جواب ہے جو اسلام پر خواتین کے حقوق غضب کرنے کا الزام لگاتے ہيں۔۔یہ ایک اسلامی ملک کی مسلمان خاتون ہی تھی جس کی بدولت یورپ میں علم اور ادب کا راستہ کھلا۔۔جس زمانے میں یورپ کی عورت کیا مرد بھی تعلیم سے کوسوں دور تھے اس وقت ایک تعلیم یافتہ مسلمان خاتون جس کو کسی مرد کا سہارا بھی دستیاب نہ تھا یورپ کے دروازے پر ایک یونیورسٹی کی بنیاد رکھ رہی تھی۔۔
فاطمہ الفہری کا کردار اور شخصیت ان تنگ ذہن مسلمانوں کے لیے بھی ایک مثال ہے جو اسلام کے نام پر خواتین پر پابندیاں عائد کر رہے ہوتے ہیں اور خواتین کو تعلیم جیسے بنیادی حق سے محروم رکھے ہوئے ہیں

علم ، جستجو اور عشق و مستی کا فیضان تھا کہ فارابی نے 100، امام رازی نے 125، ابن حجر عسقلانی نے 150، امام غزالی نے 200، ابن العربی نے 250، عبدالغنی النابلسی نے 300، ابن تیمیہ نے 500 علامہ جلال الدین سیوطی نے 550 اور ابن طولون دمشقی نے 75 سے زیادہ کتب تصنیف کرڈالیں۔
علامہ امام ابن جوزی رحمۃ اللہ علیہ جو قلم تراشتے تو اس تراشے ہوئے برادے کو جمع کرتے رہتے اور انتقال کے وقت وصیت کی کہ میری میت کے غسل کا پانی اسی برادے سے گرم کرنا۔ ان کی وصیت پر عمل کیا گیا، کیونکہ تراشے ہوئے اقلام کا برادہ اتنا تھا کہ پانی گرم کرنے کے لئے آگ بآسانی لگ گئی۔ امام محمد رحمۃ اللہ علیہ پر بلوغت کے بعد سے کوئی رات ایسی نہیں گزری جب انہوں نے رات کو کم از کم ایک صفحہ نہ لکھا ہو۔
آج یہ ساری خوبیاں جن لوگوں کے پاس ہیں دنیا کی امامت اور اقتدار بھی ان ہی کے پاس ہے۔ امام مسلم کا انتقال جس بیماری میں ہوا وہ یہ تھی کہ وہ کتابیں پڑھنے میں اتنے محو ہوئے کہ ساتھ رکھے کھجور کے ٹوکرے میں سے ساری کھجوریں کھا لیں اور ان کو معلوم تک نہ ہوسکا، جو بعد ازاں ان کے لئے جان لیوا ثابت ہوا۔
یہ نام نہاد “تعلیم” دکھاوے کی “ڈگریاں” اور غلامی کی تیاریاں۔ گریڈز، نمبرز، جی- پی – ایز اور عزت نفس گروی رکھنے والی ڈگریاں اگر علم ہے تو پھر اس “علم” کو دیوار پر مار دینا چاہئے اور اس “علم” کو تلاش کرنا چاہیے جو انسانوں، معاشروں اور قوموں کو سدھارتی ہے۔ کوشش کریں کہ اپنی نئی نسل کو ڈگری دلوائیں نہ دلوائیں “علم” ضرور حاصل کروائیں، انسانیت ضرور سکھادیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں