زمین کے سرد ترین 10 مقامات ،جاننئے 63

زمین کے سرد ترین 10 مقامات ،جاننئے

زمین کے سرد ترین 10 مقامات/ world coldest places ،جاننئے

زمین کے سرد ترین 10 مقامات ،جاننئے

10۔ زمین کے سرد ترین مقامات (Earth’s coldest places)

آپ نے اکثر لوگوں کو یہ کہتے ہوئے سنا ہو گا کہ سائبیریا Siberia کی ہوائیں چلی ہیں، اس لئے سردی میں اضافہ ہوا ہے۔ ایسا کیوں ہے؟
سائبیریا روس کا علاقہ ہے۔ سائبیریا کا رقبہ روس کے کل رقبے کا 77 فیصد بنتا ہے۔ یعنی ایک کروڑ تیس لاکھ مربع کلومیٹر سے بھی زائد۔ روس کا کل رقبہ ایک کروڑ ستر لاکھ مربع کلومیٹر سے کچھ ہی زیادہ ہے (پاکستان کا کل رقبہ 881913 آٹھ لاکھ اکیاسی ہزار نو سو تیرہ مربع کلومیٹر ہے)

ہمارے پاکستان کی سردی کا روس Russia کے علاقے سائبیریا Siberia کے سرد موسم سے بڑا گہرا تعلق ہے۔ دراصل ہمارے خطے شمالی اور وسطی ایشیا میں سردی کے موسم میں شدت تب آتی ہے جب سائبیریا (روس کے برفانے علاقے) سے سرد ہوائیں ہمارے علاقوں کا رخ کرتی ہیں۔ سائبیریا ہماری زمین کے سرد ترین مقامات میں سے ایک مقام ہے۔ اس جگہ کا کم سے کم درجہ حرارت منفی اکہتر 71- ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ سائبیریا روس کا شمالی حصہ ہے اور یہ شمالی ایشیا کے ساتھ منسلک ہے۔

سائبیریا کا خطہ پاکستان سے کم و بیش چار ہزار 4000 کلومیٹر دور ہے۔ اسی خطے کا ایک علاقہ ہے جسے Oymyakon کہا جاتا ہے۔ یہ علاقہ سطح سمندر سے تقریبا ڈھائی ہزار 2500 فٹ بلند ہے۔ یہ علاقہ دنیا کے سرد ترین علاقوں میں شمار ہوتا ہے۔ اس چھوٹی سی آبادی میں رہنے والا ہر انسان ہر روز زندگی کو زندہ رکھنے کے لئے بہت سے جتن کرتا ہے۔ یہاں پورے سال میں بہت کم ایسے دن آتے ہیں جب درجہ حرارت منفی سے پلس کی طرف سِرکتا ہو۔ یہاں اس علاقے کا اوسط درجہ حرارت زیادہ تر منفی 58- رہتا ہے۔ منفی اکہتر ڈگری سینٹی گریڈ کا درجہ حرارت یہیں سے ریکارڈ کیا گیا تھا۔ روس کے یہ علاقے ایک طرح کے برفانی ویرانے ہیں۔ جب یہاں سے ہوائیں چل کر ہمارے علاقوں میں پہنچتی ہیں تو سردی کی شدت میں بے حد اضافہ ہو جاتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

world coldest place
one of the world coldest place

سائبیریا کے اتنا سرد ہونے کی وجہ یہ ہے کہ زمین کا یہ حصہ شمالی قطب (North pole) کے قریب واقع ہے۔ جہاں چھ چھ ماہ تک سورج دکھائی نہیں دیتا (اس بات کو سمجھنے کے لیے اسی یونٹ کی تحریر نمبر 3 پڑھیں) ان علاقوں کے قریب موجود سمندر بھی جم جاتا ہے۔ یہاں کئی کئی ہزار فٹ لمبی چوڑی جھیلیں ہیں، جو کہ سردی کہ موسم میں جم کر یوں ٹھوس ہو جاتی ہیں کہ نقشے کے بغیر آپ کبھی نہیں جان سکتے کہ آپ جھیل پر کھڑا ہیں یا عام زمین پر۔ ان علاقوں میں اس قدر شدید اور لمبے دوانیے کی سردی پڑتی ہے کہ “پرندوں کو اپنی جان بچانے اور خوراک حاصل کرنے کے لئے کئی ہزار کلومیٹر کا سفر طے کر کے ایشیا اور افریقہ کی طرف آنا پڑتا ہے”

یہ بات حیران کُن ہے کہ روس کے اس شدید برفانی خطے میں منفی پچاس سے منفی ساٹھ تک گر جانے والے درجہ کے اندر بھی انسان رہتے ہیں۔ اس پورے خطے (جو کہ کم و بیش پندرہ پاکستانی خطوں سے بھی بڑا ہے) کی آبادی چار کروڑ کے لگ بھگ ہے۔ زیادہ تر لوگ چھوٹی چھوٹی بستوں کی صورت میں آباد ہیں۔ غذائی قلت کے باعث یہاں کے خونخوار بھیڑیے (Wolfs) مل جانے والے شکار کی ہڈیوں پر بوٹی نام کی کوئی چیز نہیں چھوڑتے، چاہے وہ شکار انسان ہی کیوں نا ہو۔

سائبیریا میں سردیاں لمبی ہوتی ہیں۔ یہاں گیارہ مہینے سردی راج کرتی ہے اور صرف ایک مہینہ بہار کہ حصے میں آتا ہے۔ یہ ایک مہینہ بھی بطور بہار (Summer) ان کے لئے ہے ورنہ ہمارے لئے تو سائبیریا کا یہ ایک مہینہ بھی سردی سے کم نہیں ہو گا۔ سائبیریا میں بہار کے اس مہینے میں بھی درجہ حرارت 10 ڈگری سینٹی گریڈ سے بڑھتا نہیں ہے۔ یعنی جون جولائی میں جب ہم 50 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت کے لگ بھگ انتہائی حِدّت والے موسم کا سامنا کر رہے ہوتے ہیں تو سائبیریا میں وہ موسم چل رہا ہوتا ہے جو ہمارے پاس دسمبر و جنوری میں ہوتا ہے۔ اور دسمبر و جنوری میں سائبیریا میں موسم بہت شدید سرد ہوتا ہے۔

اس تحریر کے ساتھ جو تصویر لگی ہے۔ یہ Siberian times سے لی گئی ہے۔ یہ سائبیریا میں موجود شہر Norilsk ہے۔ اس شہر کی آبادی دو لاکھ کے قریب ہے۔ تصویر میں موجود گاڑی برف میں چُھپ چکی ہے اور یہ اس شہر کی تاریخی برف باری ہے کہ جو بہت کم دورانیے میں اتنی اونچائی تک پہنچ گئی ہے۔ گاڑی کے مالک کا کہنا ہے کہ پانچ منٹس قبل میں اپنی گاڑی پارک کر کے گیا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

روس میں سائبیریا کے شمالی حصے کے اندر آباد کچھ ایسے گاؤں بھی ہیں جنہیں اس دنیا کی سرد جھنم کہا جائے تو مبالغہ آرائی نا ہو گی۔ انہیں آبادیوں میں سے ایک “ورخویانسک Verkhoyansk” نام کا گاؤں بھی ہے۔ 2010 میں اس گاؤں کی آبادی کم و بیش تیرہ سو 1300 افراد پر مشتمل تھی۔ منفی 67 ڈگری سینٹی گریڈ تک گر جانے والے درجہ حرارت کا حامل یہ علاقہ زمین کے شمالی قطب (North pole) سے کچھ زیادہ دور نہیں ہے۔ ڈیلی میل نے 7 فروری 2010 کو ایک خبر شائع کی۔ بہت دنوں سے لوگ گاؤں کے آس پاس بھیڑیوں (Wolves) کا کٹھ جوڑ دیکھ رہے تھے۔ کم و بیش چار سو خونخوار بھیڑیے الگ الگ گروہوں میں بٹ کر برف کے ویرانے میں گھرے ہوئے اس چھوٹے سے گاؤں کا وقتاً فوقتاً چکر لگا رہے تھے۔ شکاریوں کی چوبیس ٹیمیں اپنے ہتھیار تھامے ان بھیڑیوں کا پیچھا کر رہی تھیں۔ چار دن میں ان خونخوار بھیڑیوں نے گاؤں کے تیس کے لگ بھگ گھوڑوں کو مار ڈالا تھا۔ منفی 49 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت کی سردی میں بھیڑیوں کو بطور شکار ملنے والے یہ گھوڑے کسی انعام سے کم نظر نہیں آ رہے تھے۔

پھر ان بھیڑیوں میں سے کچھ مار دیے گئے اور کچھ کو بھگا دیا گیا۔ روس بالخصوص سائبیریا میں انسانوں کو زندہ رہنے کے لئے صرف خون کو منجمد کر دینے والی سردی سے ہی لڑنا پڑتا ہے، ایسا نہیں ہے۔ بلکہ سائبیریا کے ان دیہاتوں اور ٹھنڈے جنگلوں میں رہنے والے سائبیرین لوگوں کو ہر دن ہر لمحہ ان خونخوار بھیڑیوں کا خطرہ بھی چوکنا کئے رکھتا ہے۔ ان علاقوں میں رہنے والے لوگ ضروریات زندگی کی تقریبا ہر چیز کے لئے بڑے شہروں کے محتاج ہیں۔ پورا سال برف سے ڈھکے رہنے کی وجہ سے نا ہی یہاں فصل اُگائی جا سکتی ہیں اور نا ہی کوئی پھل وغیرہ پیدا ہوتا ہے۔ اگر کسی کے پاس گاڑی ہے تو اسے اس گاڑی کا انجن چوبیس گھنٹے اسٹارٹ رکھنا ہو گا۔ ایک بار انجن آف کر دیا تو شدید ترین سردی کے باعث دوبار اسے اسٹارٹ نہیں کیا جا سکتا۔

یہ لوگ شدید ترین سردی کے باوجود دوسرے علاقوں میں آباد نہیں ہوتے۔ مانا کہ سائبیریا کے ان خطوں میں زندہ رہنے کے لئے بہت سے جتن کرنے پڑتے ہیں، نہانا اور منہ دھونا تو ایک طرف یہاں کے لوگوں کو پینے کے لئے بھی پانی اسی برف کو پگھلا کر حاصل کرنا پڑتا ہے۔ ان تمام مشکلات کے باوجود ان لوگوں کو یہ علاقے ایسے ہی عزیز ہیں جیسا کہ ہمیں اپنے علاقوں سے پیار ہے۔ تسلسل سے پڑتی اتنی شدید ٹھنڈ کا یہ بھی کمال ہوتا ہے کہ آپ کوئی چیز (بکری ہرن وغیرہ) ذبح کریں اور اسے برف کھود کر اس میں دبا دیں۔ چاہے ایک صدی بعد ہی سہی لیکن جب وہاں سے اس ذبح شدہ جانور کو نکالا جائے گا تو وہ گوشت، گوشت ہی کی شکل میں موجود ہو گا”

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کچھ حیران کن!
یہ جون 2019 کی بات ہے۔ سائبیریا کی ایک ریاست Republic of Sakha میں بہتے دریا Tirekhtyakh river کے کنارے سے ایک مقامی شکاری نے برف کے اندر سے ایک سر برآمد کیا۔ وہ سَر کسی بھیڑیے کا تھا۔ برف کے نیچے سے بھیڑیے کا ملنے والا وہ سَر (Head) حجم کے لحاظ سے موجودہ بھیڑیوں کے سر سے کافی بڑا تھا۔ حجم اور وزن کے لحاظ سے اس وقت جو سب سے بڑی قسم کے بھیڑیے پائے جاتے ہیں انہیں Grey wolf کہا جاتا ہے۔ Grey wolf کے سر کی لمبائی 9 سے 11 انچ تک ہوتی ہے۔ لیکن سائبیریا کے دریائے Tirekhtyakh کے کنارے سے ملنے والے بھیڑیے کے اس سر کا سائز 16 انچ سے تھوڑا سا کم تھا۔ یہ بہت انوکھی خبر تھی۔ اس خبر کو جون 2019 میں واشنگٹن پوسٹ، جاپان ٹائمز اور سائبیرین ٹائمز (Siberian times) سمیت دنیا کے بہت سے مشہور نیوز چینلز اور اخبارات نے شائع کیا۔

ہزاروں سالوں سے موجود سائبیریا کے اس قدرتی برف خانہ سے ملنے والے بھیڑیے کے اس سر پر تحقیق ہوئی۔ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ “بھیڑیے کا یہ سر 32000 بتیس ہزار سال پرانا ہے۔ تب بھیڑیوں کی جسامت آج کے موجودہ بھیڑیوں کی جسامت سے کافی مختلف تھی۔ لیکن بھیڑیے کا سر باقی جسم سے علیحدہ ہو کر یہاں کیسے پہنچا؟ اس متعلق خیال کیا گیا کہ ہو سکتا ہے کسی انسان نے اس بھیڑیے کا شکار کیا ہو اور سر کو الگ کر کے پھینک دیا ہو۔ یا ہو سکتا ہے یہ بھیڑیا کسی دوسرے جانور کا شکار ہو گیا ہو۔ سائبیریا سے ہزاروں سال قبل یہاں رہنے والے جانوروں کی اس سے بھی قدیم لاشیں دریافت ہو چکی ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سائبیریا میں موجود دنیا کا سب سے لمبا ریلوے ٹریک بھی موجود ہے۔ چین کے شہر بیجنگ Beijing سے شروع ہو کر ریل گاڑی کی پٹری صحرائے گوبی Gobi desert میں داخل ہوتی ہے۔ آٹھ سو 800 کلومیٹر چوڑا اور پندرہ سو کلومیٹر لمبا صحرائے گوبی سطح سمندر سے کم و بیش پانچ ہزار فٹ بلند ہے۔ بارہ لاکھ پچانوے ہزار 1295000 مربع کلومیٹر میں پھیلا یہ ریگستان چین کے شمال سے ملک منگولیا Mongolia میں داخل ہو جاتا ہے۔ ٹرانس سائبیرین ریلوے کی پٹری اس صحرا کے چین والے حصے کو عبور کر کے منگولیا میں داخل ہوتی ہے اور منگولیا کو بھی پار کر کے یہ پٹری سائبیریا کے برفانی علاقوں سے ہوتی ہوئی چھ دن اور چھ راتوں کا سفر طے کر کے روس کے شہر ماسکو Moscow پہنچ جاتی ہے۔ یہ تمام راستہ نو ہزار تین سو 9300 کلومیٹر بنتا ہے۔ دنیا میں اس سے لمبا ریلوے ٹریک کہیں اور موجود نہیں ہے۔ ایک سو پانچ 105 سال پہلے بچھایا جانے والا یہ ریلوے ٹریک آج بھی تین ملکوں (چین، منگولیا اور روس) کے باشندوں کو ادھر سے ادھر آنے جانے میں معاون ثابت ہو رہا ہے۔ دنیا بھر سے بہت سے سیاح (Tourists) تجسس سے بھرپور اس سفر سے لطف اندوز ہونے کے لئے تقریبا بیس ہزار 20000 کلومیٹر (آنے اور جانے) کا سفر کرتے ہیں۔ اس سفر کے دوران بہت سے دریا، جھیلیں، صحرا، جنگل، وادیاں، میدانی اور پہاڑی علاقے آتے ہیں۔

سب سے بڑھ کر مسحور کن سائبیریا کے وہ خاموش اور برف سے ڈھکے کئی کئی سو کلومیٹر لمبے اور چوڑے وہ جنگل ہیں جہاں سے یہ ٹرین گزرتی ہوئی ماسکو کی طرف بڑھتی ہے۔ مختصر یہ کہ “Trans Siberian Railway” ایک طرح سے ہمارے ایشیا کا عجوبہ ہے۔ جو کہ نا صرف ان ممالک کے لئے سفر کی سہولت ہے بلکہ ہماری زمین کے حیران کن مناظر کو بھی دیکھنے کا ایک بہت اچھا ذریعہ ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سائبریا کے ساحلوں سے جڑا ہوا منجمد سمندر (Arctic Ocean)
چونکہ گرین لینڈ، ناروے، سویڈن اور کینیڈا وغیرہ کی طرح روس کا شمالی حصہ (سائبیریا کا علاقہ روس کا شمالی حصہ ہے) بھی زمین کے شمالی قطب کے پاس واقع ہے اس لئے اس علاقے کے ساتھ لگنے والا سمندر سال کے زیادہ تر مہینوں میں جم کر برف بن جاتا ہے۔ شمالی قطب (North pole) کے پاس موجود اس سمندر کو آرکٹک سمندر (Arctic Ocean) کہتے ہیں۔ Arctic Ocean دنیا کا پانچواں بڑا سمندر ہے۔ اس سمندر کا جو حصہ سائبیریا کو لگتا ہے اسے East Siberian sea کہتے ہیں۔ اس کی زیادہ سے زیادہ گہرائی 509 فٹ ہے اور اوسط گہرائی 190 فٹ ہے۔

مشرقی سائبیرین سمندر East Siberian sea اٹھانوے لاکھ سات ہزار 987000 مربع کلومیٹر کے رقبے پر پھیلا ہوا انتہائی سرد سمندر ہے۔ یہاں سے گزرنے والے بحری جہاز کئی بار اس کی جمی ہوئی برف میں پھنس جاتے ہیں۔ یہ سمندر زمین کے اس حصے (نارتھ پول) پر واقع ہے جہاں چھ ماہ تک رات چھائی رہتی ہے اور باقی کے چھ ماہ تک وہاں دن رہتا ہے لیکن اس لمبے دن کے دوران بھی (خط استواء سے بہت زیادہ دوری کی بنا پر) اس حصے پر سورج کی کرنیں اور تمازت و حدّت براہ راست نہیں پڑتی بلکہ تِرچھی ہو کر پڑتی ہیں۔ اس لئے یہاں کا سمندر اور اس سے ملحقہ علاقے شدید ٹھنڈ میں ڈوبے رہتے ہیں۔ زمین بہت خوبصورت ہے۔ زمین پر بے حد ٹھنڈ بھی ہے، ایسی کہ آپ حیران رہ جائیں۔ زمین پر گرمی بھی ہے، ایسی کہ جان کر آپ مبہوت ہو جائیں۔ زمین سفید (برف) بھی ہے، زمین سبز (جنگل و گھاس کے میدانوں پر مشتمل) بھی ہے۔ زمین سرخ (سرخ پتھروں والے پہاڑوں پر مشتمل) بھی ہے۔ زمین نیلی (سمندر پر مشتمل) بھی ہے۔ یہ سارے رنگ زمین کے ہیں۔۔۔۔۔ اور یہ سارے مل کر کس چیز کو جنم دیتے ہیں؟ زندگی کو۔۔۔!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں