ہوٹل پر بیٹھے دو دوستوں کی گفتگو 7

ہوٹل پر بیٹھے دو دوستوں کی گفتگو

ہوٹل پر بیٹھے دو دوستوں کی گفتگو
ہوٹل پر بیٹھے دو دوستوں کی گفتگو

ہوٹل پر بیٹھے دو دوستوں کی گفتگو

ہوٹل پربیٹھےایک شخص نے دوسرے سے کہا، “یہ ہوٹل پرکام کرنے والا بچہ اتنا بیوقوف ہے کہ میں پانچ سو اور 50 کا نوٹ رکھوں گا تو یہ پچاس کا نوٹ ہی اٹھاۓ گا۔”


اور ساتھ ہی بچے کو آواز دی اور دو نوٹ سامنے رکھتے ہوئے بولا، “ان میں سے زیادہ پیسوں والا نوٹ اٹھا لو۔”
‏بچے نے پچاس کا نوٹ اٹھا لیا ۔


دونوں نے قہقہہ لگایا اور بچہ واپس اپنے کام میں لگ گیا۔


پاس بیٹھے شخص نے ان دونوں کے جانے کے بعد بچے کو بلایا اور پوچھا کہ تم اتنے بڑے ہو گئے ہو۔ تم کو پچاس اور پانچ سو کے نوٹ میں فرق کا نہیں پتا۔


یہ سن کر بچہ مسکرایا اور بولا، “یہ آدمی اکثر ‏کسی نا کسی دوست کو میری بیوقوفی دکھا کر انجوائے کرنے کے لیے یہ کام کرتا ہے اور میں پچاس کا نوٹ اٹھا لیتا ہوں۔ وہ خوش ہو جاتے ہیں اور مجھے پچاس روپے مل جاتے ہیں۔ جس دن میں نے پانچ سو اٹھا لیا، اس دن یہ کھیل بھی ختم ہو جائے گا اور میری آمدنی بھی۔


‏زندگی بھی اس کھیل کی طرح ہی ہے۔ ہر جگہ سمجھدار بننے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ جہاں سمجھدار بننے سے اپنی ہی خوشیاں متاثر ہوتی ہوں، وہاں بیوقوف بن جانا ہی سمجھداری ہے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں