pallandri 698

سردار نعمان فاروق کا پلندری سے الیکشن لڑنے کا اعلان جانیئے کونسی بڑی جماعت میں شمولیت اختیارکر رہے ہیں

پلندری کی سیاست میں بڑی ہلچل
سردار نعمان فاروق کا پلندری سے الیکشن لڑنے کا اعلان جانیئے کونسی بڑی جماعت میں شمولیت اختیارکر رہے ہیں


پلندری سکائی اُردو نیوز۔سردار نعمان فاروق نے پلندری سے آزاد امیدوار کی حیثیت سے الیکشن لڑنے کا اعلان کردیانوجوانوں کی بڑی تعداد نے سردار نعمان فاروق کی سیاسی حمایت کی مکمل یقین دہائی کے ساتھ مکمل حمایت کا بھی اعلان کیا ہے۔سردار نعمان فاروق کا مزید کہنا تھا کے سیاسی میدان میں پوری قوت کے ساتھ اتریں گئے

[quads id=RndAds]

مفاداتی ،خاندانی اور فرسودہ سیاست کے خاتمے کیلئے سیاست میں آنے کا فیصلہ کیا ہے چند مفاد پرستوں ،سیاسی ٹھگوں کی سیاست نے ہمارے ضلع کو سب سے پسماندہ اور بنیادی عوامی حقوق سے محروم کیا ہوا ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کے ہر پانچ سال بعد ٹوٹی کھمبے اور ایک یا آدھا کلومیٹر سڑکوں کی خاطر عوام کے ضمیروں کی بندر بانٹ کی جاتی ہے۔سردار نعمان فاروق نے سوشل میڈیا پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہو ئے کہا ہے۔

[quads id=RndAds]


یہ وہ نظریہ ہے جس کی بنیاد پر میں نے اس دفعہ الیکشن میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا
انشاء اللہ الیکشن 2021 میں باضابطہ آزاد حثیت میں الیکشن میں حصہ لوں گا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس سوچ کو شکست دینا کے ووٹ اس کا جو نمبر میں جیت کی پوزیشن پر ہو صرف اس کا ،ووٹ اس کو نہ دیا تو زندگی تباہ ہو جائے گی ، آپ کا رزق بند ہو جائے گا ، آپ کو روڈ نہیں ملے گی ، آپ کو پانی نہیں ملے گا ، آپ کو نوکری نہیں ملے گی ، آپ کو سرکاری دفتر میں کوئی لفٹ نہیں کروائے گا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دنیا میں سب سے آسان کام دوسروں پر تنقید کرنا ہے لیکن ہم نے کبھی اپنے آپ کو اس قابل نہیں سمجھا کے ہم پر بھی تنقید ہو کیونکہ ہمیں یہ ڈر ہوتا ہے ہم کسی بھی مقابلے میں جائیں گے تو اگر مقابلہ ہار گئے تو لوگ ہم پر ہنسیں گے ۔

[quads id=RndAds]

اور اس ہنسی کا ڈر ہم پر ایک خوف اور ہیجانی کیفیت طاری رکھتا ہے جو ہماری سوچ پر ہاوی رہنے کے ساتھ ہمیں ذہنی غلامی اور اندھی تقلید کی طرف لے جاتا ہے اور ساتھ میں سب سے بڑا یہ کے جس رزق کو دینے کا اللہ کا اپنے انسان کے ساتھ کا وعدہ ہے وہ ہم انسانوں سے امید کر بیٹھتے ہیں ، جب تھوڑی بہت اونچ نیچ ہو جائے تو ہم شکوہ و شکایات کے انبار اور انگار اپنے دلوں کے اندر پیدا کرتے ہیں ۔

[quads id=RndAds]

اور ایک چھوٹی سی غلطی پر وہ غبار اپنے آنگن میں نکالتے ہیں ۔ کیونکہ جب بھی انسان کسی مقابلے کے امتحان میں جاتا ہے وہ صرف اس سوچ کو مدنظر رکھتا ہے کے جیتنا ہے جبکہ اس نے کبھی یہ نہیں سوچا اس میں مقابلے میں اس نے جو دس بیس نمبر حاصل کیے یہ اس کا اثاثہ ہیں اسی طرح الیکشن میں جو آتا ہے یا آنے کی سوچھتا ہے تو اس کا ذہن جیت کو ہاوی رکھتا ہے کبھی اس نے نہیں سوچا آپ کی کامیابی اتنی ہی کافی ہے ایک سوچ کو دس ، بیس میں تبدیل کر دیا ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں