حضرت نوح ؑ 226

حضرت نوح ؑ کی کشتی کی ایک لوح دریافت ۔۔ دنیا کے نامی گرامی 7ماہرین نے 8ماہ کی تحقیق کے بعد جب اسے پڑھا تو اس پر کیا تحریر تھا ؟

حضرت نوح ؑ کی کشتی کی ایک لوح دریافت ۔۔ دنیا کے نامی گرامی 7ماہرین نے 8ماہ کی تحقیق کے بعد جب اسے پڑھا تو اس پر کیا تحریر تھا ؟

[quads id=RndAds]

ماہرین آثار قدیمہ روس میں مشہور وادی قاف کی کھدائی کرتے ہیں۔ جب کھدائی جاری تھی ، لکڑی کے بوسیدہ ٹکڑے زمین کی گہرائیوں میں پائے گئے۔ جانچ پڑتال پر پتہ چلا کہ یہ ٹکڑے کشتی نوح کے ہیں ، جو لہروں کے اثرات کی وجہ سے زمین میں پانچ ہزار سال گزر جانے کے باوجود بھی محفوظ تھے۔

ثار قدیمہ کے محقیقن نے ان تختوں کو اپنے پاس محفوظ کر لیا اور مزید دو سال کھدائی اور غور و فکر میں صرف کئے حتی کہ اسی جگہ سے ایک تختی ملی جو ایک لوح کی مثل تھی جس پر چند چھوٹی سطریں انتہائی پرانی اور انجان تحریر میں ثبت تھیں ۔تختی 14 انچ لمبی 10 انچ چوڑی تھی ۔

[quads id=RndAds]

حیرت کی بات یہ تھی کہ باقی تختیاں بوسیدہ ہو چکی تھی اوریہ صیح و سالم تھی اور بہت حیران‘ اب بھی یہ تختی ماسکو کے عجائب گھر میں موجود ہے جسے دیکھنے ملکی و غیر ملکی سیاح آتے ہیں۔ اس تختی کا مطالعہ کرنے کے لئے ایک سات رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی ، جس میں ایک تاریخ دان ، خطاطی کا استاد اور روس اور چین کا ماہر لسانیات شامل ہیں۔ ذیل میں ان کا تعارف ہے۔

۔پروفیسر سولی نوف : ماسکو یونیورسٹی کے ماہر تاریخ اور پرانی زبانوں کے استاد ۔ پروفیسر ایفاہان خینو : چائنہ کی لولوہان یونیورسٹی کے زبان شناسی کے استاد میشانن لو فارمنگ : روس کے محکمہ آثار قدیمہ کے ماہر پروفیسر دی راکن : نالج لنین اکادمی میں ماہر تاریخ قاغول گورف : کیفز ویو یونیورسٹی میں ماہر لغات ایم احمد کولا : روسی ادارہ عمومی تحقیقات کے مہتمم میچر کولتوف : وائس چانسلر اسٹالین یونیورسٹی ان حضرات نے 8 مہینے تحقیق کی اور درج ذیل رپورٹ پیش کی ۔

[quads id=RndAds]

لکڑی کی بنی یہ تختی انہیں تختوں میں سے ہے کہ جو پہلے دریافت ہوئیں اور ان کا تعلق جناب نوحؑ سے ہے ۔ یہ تختی باقیوں کی نسبت بوسیدہ نہیں ہوئی اور اس قدر سالم تھی کہ نقش شدہ تحریر کو پڑھنا باآسانی ممکن تھا ۔ اس عبارت کا تعلق سامی زبان سے تھا کہ جو ام للغات تھی ۔ ان حروف اور ان کے معانی کچھ یوں تھے ’’اب فنا ایلاھم ای قل بیدج فوریک بن۔ ذء شائو ۔ محمد ایلیاہ شبرا شبیرا فاطمہ غقیو مابیون افیقون ابھاری مازونہ تلال جی یور۔

[quads id=RndAds]

نہتر وجی ہاش کو قائید ثیوم۔ اس تحریر کا مطلب اخذ کیا گیا تو اس میں اللہ پاک کی تعریف اورحضرت محمد ﷺ و آل حضرت محمد ﷺ کا ذکر تھا۔اس سب کے بعد انگریز دانشور ایف ایف میکس جو کہ مانچسٹریونیورسٹی میں پرانی زبانوں کا استاد تھا اس تحقیق کو انگریزی میں منتقل کیا اور یہ ڈیلی مرر، سٹار، سن لائٹ جیسے رسائل و اخبارات میں شائع ہوئی۔

[quads id=RndAds]

یہ بھی پڑھیں۔مردہ لوگوں کے سننے کی صلاحیت کتنی زیادہ ہو تی ہے؟ حضور پاک ﷺکا فرمان سامنے آگیا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں