نماز 90

دوصورتیں ایسی ہیں جن میں نماز معاف ہے۔جانیئے وہ کونسی دو صورتیں ہیں جن میں نماز معاف ہے

دوصورتیں ایسی ہیں جن میں نماز معاف ہے۔جانیئے وہ کونسی دو صورتیں ہیں جن میں نماز معاف ہے


سکائی اُردونیوز۔اسلام میں کلمہ پڑھنے کے بعد اسلام کا سب سے بڑا رُکن نماز ہے، یہ ہر عاقل بالِغ مسلمان مرد و عو رت پر فرضِ عین ہے کہ دو صورَتوں کے علاوہ کسی حال میں بھی مُعاف نہیں ۔
جنون یا بے ہوشی مسلسل اتنی لمبی ہوجائے کہ چھ نمازوں کا وقت گزرجائے مگر ہوش نہ آئے تو یہ نمازیں مُعاف ہوجائیں گی اور ان کی قضا بھی لازِم نہیں
عورت کو حیض یا نفاس آجائے تو ایسی حالت میں نماز معاف ہوجاتی ہے۔

ان دو صورتوں کے علاوہ کسی حالت میں بھی نماز مُعاف نہیں ، بیماری اگرچہ کتنی ہی شدید ہو مگر نماز مُعاف نہیں ، اگر کھڑے ہونے کی طاقت نہ ہو تو بیٹھ کرنماز پڑھے، اگر رکوع و سجدہ نہ کرسکتا ہو تو سر کے اشارے سے رکوع و سجدہ کرے، اگر بیٹھ کر بھی نماز نہیں پڑھ سکتا تو لیٹ کر اشارے سے پڑھے، اگر لیٹ کر سر سے بھی اشارہ نہ کرسکتا ہو تو اُس وقت بھی نماز مُعاف نہیں ہوگی، البتہ وہ فی الحال نماز نہ پڑھے جب تندرست ہوجائے تو ان نمازوں کی قضا پڑھے گا۔ ہاں ، اگر چھ نمازوں کا وقت اسی حالت میں گزرجائے تو ان کی قضا ساقط ہوجائے گی۔

جنگ کی حالت میں بھی نماز کی ادائیگی

عین جنگ میں بھی مجاہد نَماز پڑھے گا، اگر گھوڑے پر سُوار ہو اور اترنے کی مہلت نہ ہو تو ممکن ہونے کی صورت میں گھوڑے پر بیٹھے بیٹھے اشارے سے نَماز پڑھے گا، اِسی طرح گھمسان کی لڑائی میں بھی ممکن ہونے کی صورت میں اشارے سے رکوع و سجدہ کرکے نَماز ادا کرے گا۔قراٰنِ کریم میں جس قدرنماز کے تاکیدی اَحکام اور نَماز چھوڑنے پر سخت وعیدیں آئی ہیں اتنی تاکید اور وعید کسی دوسری عبادت کے لیے نہیں آئی۔ نَماز کی فرضیَّت کا انکار کرنے والا بلکہ اس کی فرضیَّت میں شک کرنے والا بھی کافر اور اسلام سے خارج ہے اور جان بوجھ کرایک وقت کی نَماز بھی چھوڑنے والا فاسق ،سخت گناہ گاراور عذابِ نارکا حق دار ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں