آئی پی ایل

آئی پی ایل کی منسوخی سے بھارتی بورڈ کو 50 کروڑ ڈالر سے زائد کے نقصان کاخدشہ

آئی پی ایل (آنڈین پریمئر لیگ) دنیا کی مہنگی ترین کرکٹ لیگز ہے جس پر بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) کا بھی بڑی حد تک مالی انحصار ہوتا ہے تاہم رواں برس کورونا وائرس کے باعث منسوخی سے 53 کروڑ ڈالر سے زائد کا نقصان ہوسکتا ہے۔

خبرایجنسی اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق آئی پی ایل میں شریک ہونے والے کھلاڑیوں کےمعاوضوں میں کمی کا تاحال کوئی منصوبہ نہیں ہے۔

خیال رہے کہ 12 برس قبل شروع ہونے والی آئی پی ایل کورونا وائرس کے باعث طے شدہ شیڈول کے مطابق 29 مارچ کو شروع نہ ہوسکی تھی اور غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کرنے کا اعلان کیاگیا تھا۔

آئی پی ایل 2020 کی منسوخی سے بھارتی بورڈ کے ساتھ ساتھ ملکی معیشت کو بھی مالی دھچکا لگے گا۔بی سی سی آئی کے خزانچی ارون دھومل کا کہنا تھا کہ ‘بی سی آئی آئی کو سرمایے میں بڑے نقصان کاسامنا ہے، اگر آئی پی ایل منعقد نہیں ہوئی تو بھارتی 40 ارب روپے (53 کروڑ ڈالر) یا اس سے بھی زیادہ نقصان ہوگا’۔انہوں نے کہا کہ ‘ہم یقین سے نہیں کہہ سکتے ہیں کہ آیا اس سال آئی پی ایل منعقد کرپائیں گے یانہیں’۔

بی سی سی آئی کی جانب سے 2008 میں آئی پی ایل شروع کردی گئی تھی جو دنیا کی مہنگی ترین اور منافع بخش لیگ بن گئی تھی جس سے بورڈ کو کروڑوں ڈالر کا سرمایہ جمع ہوتا ہے۔ایک اندازے کے مطابق آئی پی ایل کا بھارتی معیشت میں سالانہ 11 ارب ڈالر سے زائد کا حصہ ہوتا ہے۔ارون دھومل نے کہاکہ ‘ہم اس وقت مالی نقصان کاصحیح اندازہ لگا سکیں گے جب ہمیں یقین ہو کہ کس حد تک ٹورنامنٹ متاثر ہوا ہے’۔ڈف اینڈ فیلپس فنانشل کنسلٹنسی کے مطابق گزشتہ برس آئی پی آئی کی برانڈ ویلیو 6.7 ارب ڈالر تھی جس سے بھارت کے مختلف ادارے جڑے ہوئے ہیں۔

آئی پی ایل کے 2020 تک 5 سال کے ٹی وی حقوق کی مد میں بھارتی چینل اسٹار اسپورٹس نے 22 کروڑ ڈالر سے زائد ادا کیے تھے لیکن اطلاعات کے مطابق صرف 2020 میں 40 کروڑ ڈالر سرمایہ حاصل کرنے کا ہدف بنایا گیا تھا۔

خیال رہے کہ کورونا وائرس کے باعث دنیا بھر میں کھیلوں کی سرگرمیاں معطل ہوچکی ہیں اور فٹ بال کی مشہور لیگز بھی وقت پر شروع نہ ہوسکیں اور مقابلوں کو ملتوی کرنا پڑا ہے۔جنوبی افریقہ کی ٹیم رواں برس مارچ میں بھارت کا دورہ کرنے والی تھی لیکن لاک ڈاؤن کے باعث اس سیریز کو بھی ملتوی کردیا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں