1 123

وزیر اعظم نے کورونا ریلیف فنڈ کا اعلان کردیا کس طرح فنڈ حاصل کریں مکمل جانکاری

اسلام آباد:(سکائی اُردونیوز) وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے کورونا کے خلاف جنگ کے لیے ریلیف فنڈ اور کورونا وائرس ریلیف ٹائیگر فورس کے قیام کا اعلان کردیا۔

کورونا وائرس سے پیدا شدہ صورت حال میں ملکی تاریخ کے سب سے بڑے 8 ارب ڈالر کے ریلیف پیکج کا اعلان کیا،۔وزیر اعظم کا قوم سے خظاب

قوم سے خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس ریلیف ٹائیگر فورس کا اعلان کررہا ہوں۔ یہ فورس فوج اور انتطامیہ کے ساتھ مل کر وبا کے پھیلاؤ کی صورت میں مقابلہ کرے گی۔ جن علاقوں میں لاک ڈاؤن کرنا پڑے گا تو یہ فورس خوراک اور آگاہی کی فراہمی میں مدد فراہم کرے گی۔ ینگ ڈاکٹرز، نرسز، طالب علم، انجینیئر اور دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے نوجوان اس فورس میں شامل ہوں گے۔ ہم حالات کے مطابق انھیں ہدایات جاری کرتے رہیں گے۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کورونا ریلیف اکاؤنٹ کا اعلان کررہا ہوں۔ اس میں جو بھی رقم جمع کروائے گا اس سے کوئی سوال نہیں ہوگا اور کورونا ریلیف فنڈ میں جمع کروائی گئی رقم ظاہر کرکے ٹیکس میں رعایت حاصل کی جاسکے گی۔ اس فنڈز میں آںے والی رقوم ضرورت پڑنے پر احساس پروگرام میں رجسٹرڈ 1 کروڑو 20 لاکھ افراد کے لیے کی امداد کے لیے استعمال کی جائے گی۔ اس فنڈ کا آڈٹ ہوگا اور تفصیلات عام کی جائیں گے۔ احساس پروگرام کے فیس بک پیچ کے ذریعے مخیر اور مستحق حضرات کے رابطے کروائے جائیں گے۔
عمران خان نے کہا کہ وباؤ کے پھیلاؤ کی تیزی کے بارے میں فی الحال کچھ نہیں کہا جاسکتا وزیر اعظم ہاؤس میں ایک ٹیم اس پر کام کررہی ہے، پانچ دن سے ایک ہفتے کے دوران وبا کے پھیلاؤ کی رفتار کے بارے میں اندازہ لگا لیں گے۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ہم نے ملکی تاریخ کے سب سے بڑے 8 ارب ڈالر کے ریلیف پیکج کا اعلان کیا۔ جب کہ امریکا نے 2000ارب ڈالر کا پیکج دیا۔ اس موازنے سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ہمارے پاس وسائل تو نہیں۔ ہمارے پاس سب سے بڑی طاقت ایمان اور دوسری بڑی طاقت نوجوان آبادی ہے۔ کورونا کی جنگ جیتنے کے لیے ہم نے ان دوطاقتوں کا استعمال کرنا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جو کاروباری ادارے لوگوں کو بے روزگار ہونے سے بچانے کے لیے ملازمتیں ختم نہیں کریں گے انھیں اسٹیٹ بینک کی جانب سے آسان شرائط پر قرض فراہم کیے جائیں گے۔

قوم سے خطاب میں وزیر اعظم نے کہا کہ پوری دنیا کورونا کے خلاف لڑ رہی ہے۔ سب سے کام یاب چین رہا۔ یہ جنگ ہمیں حکمت سے لڑنی ہے اور اپنے ملک کےحالات دیکھنے ہیں۔ یہ دیکھنا ہوگا کہ جب ہم پورے ملک یا کسی خاص علاقے کو لاک ڈاؤن کریں گے تو لوگوں کو گھروں میں کھانا کیسے پہنچائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے ہمیں پڑوس میں بھارت کے حالات دیکھنے چاہییں جہاں بغیر سوچے سمجھے لاک ڈاؤن کردینے کی وجہ سے وزیر اعظم کو قوم سے معافی مانگنا پڑی۔ اب انھیں یہ مسئلہ درپیش ہے کہ اگر لاک ڈاؤن ہٹاتے ہیں تو وائرس پھیلے گا اور اگر جاری رکھیں گے تو لوگ بھوک سے مر جائیں گے، وہاں لوگ ابھی سے سڑکوں پر آگئے ہیں۔

وزیر اعظم نے مزید کہا کہ ملک میں اناج کی کمی نہیں جو لوگ ذخیرہ اندوزی کررہے ہیں ان کی وجہ سے ملک میں لوگ بھوک سے مریں گے۔ ایسے عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں