میاں بیوی 234

میاں بیوی کے تعلقات میں وہ گناہ جسے ہم گناہ ہی نہیں سمجھتے

میاں بیوی کے تعلقات میں وہ گناہ جسے ہم گناہ ہی نہیں سمجھتے

پہلا گناہ جو ازدواجی تعلقات میں معمولی سمجھا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ بیوی اپنے شوہر سے جماع کرنے سے انکار کرتی ہے اور اپنے شوہر کو اپنے قریب جانے کی اجازت دینے سے انکار کرتی ہے۔ حضور اکرم.ﷺنے فرمایا۔ جب ایک شوہر اپنی بیوی کو (ہمبستری کے لئے) بلاتا ہے ، تو بیوی پر لازم ہے کہ وہ اپنے شوہر سے فورا مان لے۔

[quads id=RndAds]

کسی شرعی عذر کے علاوہ بیوی شرعی عذر کی بنا پر انکار کر سکتی ہے۔ یعنی ، اگر اس طرح کی کوئی شرعی مجبوری ہے (جیسے حیض ، ماہواری وغیرہ) ، تو یہ الگ بات ہے۔لیکن اگر شرعی عذر نہیںہےتو آپ ﷺفرماتے ہیں “کہ!”وہ (عورت)فوراً اپنے شوہر کی بات مان لے خواہ وہ انٹ کے کجاوے(اونٹ کی وہ سیٹ جس پر بیٹھ کر سواری کی جاتی ہے) پر ہی بیٹھا کیوں نہ بلا رہا ہو۔

” ایسی بیویوں کو جو اپنے شوہروں کو اس معاملے میں حق دینا چاہتی ہیں ذہن میں رکھو کہ جب اس معاملے میں غفلت برتی جا رہی ہے ، تو انسان اپنی خواہشات کو پورا کرنے کے لئے کہیں اور جاتا ہے اور

[quads id=RndAds]

بیوی یہ سب برداشت نہیں کرسکتی ہے ، لہذا شریعت نے اس معاملے کی اہمیت بیان کی ہے۔ دوسری روایت صحیح بخاری سے نقل کی ہےآپﷺ نے فرمایا!”جب شوہر اپنی بیوی کو ہمبستری کے لئے بلائےاور بیوی انکار کر دےاور شوہر اپنی بیوی سے ناراضگی کی حالت میں سو جائے تو جب تک وہ ناراضگی کی حالت میں سوتا رہے گا فرشتے بیوی پر لعنت بھیجتے “رہیں گے۔

ازدواجی تعلقات میں دوسرا گناہ ، جسے معمولی سمجھا جاتا ہے ، جب کے شریعت میں اتنا سخت گنا ہ ہے ، وہ یہ ہے کہ عورت بغیر کسی شرعی عذر کے اپنے شوہر سے طلاق مانگتی ہے۔ صحیح جامع صغیر کی روایت ہے،آپﷺ نے فرمایا!”بغیر عذر کے خلع لینے والیاں اور اپنے شوہر سے چھٹکارا حاصل کرنے والیاں، گھر اجاڑنے والیاں یہ اس امت کی منافق ہیں ۔دوسری روایت میں فرمایا! جس عورت نے بغیر کسی سبب کے اپنے خاوند سے طلاق طلب کی اس پر

[quads id=RndAds]

جہنم واجب اور یہ جنت کی خوشبو نہیں “سونگھیں گی۔لہذا ، میری عزیز بہنوں ، یہ کہنا یا عذر کرنا کہ میں اپنے شوہر کو پسند نہیں کرتا یا اس کی آمدنی بہت کم ہے ، میرے پاس معاش نہیں ہے ، لہذااس لیئے مجھے طلاق چاہیے ۔ ، اس سنگین جرم اور گناہ سے بچنا چاہیے اور والدین کو چاہیے کہ وہ بھی چھوٹی چھوٹی باتوں پر اپنی بیٹیوں کو گھر نہ بٹھا لیں ۔طلاق شوہر کا حق ہے اور

یہ کتنی بری بات ہے کہ طلاق بیٹی ڈیمانڈ کر رہی ہے۔۔ تیسرا گناہ جو ازدواجی تعلقات میں عام ہے اور معمولی سمجھا جاتا ہے وہ حیض کے دوران اپنی بیوی سے جماع کرنا یا (پیچھے سے) جماع کرنا جو غیر فطری ہے۔،آپ ﷺ نے فرمایا! جامع ترمذی کی یہ روایت ہے،

[quads id=RndAds]

”جس شخص نے حیض والی عورت سے ہمبستری کی یا عورت کے پیچھے جماع کیا یا نجومی کے پاس گیا اور اس کی بات کی تصدیق کی (سچ مانا) تو اس نے اس چیز کا انکار کیا جو محمد ﷺ پر نازل ہوئی۔” یعنی وہ شریعت کا منکر ہے اس نے شریعت کا انکار کیا جس نے یہ عمل کیا۔ اس کے لئے شریعت نے کفارا کا حکم دیا ہے اور یہ بہت سنگین جرم ہے لیکن اس کو لوگ سمجھ ہی نہیں پا رہے اور اس بات کو کوئی سیریس لینے کو ہی تیار نہیں ہے کہ نکاح سے پہلے اس کے آداب اور ازدواجی زندگی کے متعلق سیکھا جائے۔

دنیا میں سب کچھ تربیت یافتہ ہے۔ ہم اسے بڑے فخر کے ساتھ کرتے ہیں، لیکن جب بات شریعت سیکھنے کی ہو تو ہمارے پاس کیا ہے؟ شرم آ رہی ہے۔ دنیا کی بے حیائی میں کوئی شرم کی بات نہیں ہے لیکن شریعت سیکھتے وقت یا شریعت کے بارے میں بات کرتے ہوئے ہمیں شرم آتی ہے۔ ازدواجی تعلقات میں چوتھا گناہ جو معمولی سمجھا جاتا ہے۔

[quads id=RndAds]

غیر محرم عورت کو تنہا ملنا اور غیر محرم عورت سے مصافحہ(ہاتھ ملانا) کرنا بہت بڑا گناہ ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: !جامع ترمذی کی روایت ہے ،”جب بھی کوئی آدمی کسی غیر محرم عورت کے ساتھ تنہائی میں ملتا ہےتو وہ دو نہیں ہوتے تیسرا ان میں شیطان ہوتا ہے” اور آپ ﷺ نے فرمایا! “تم میں سے کسی شخص کے لئے کیل لے کر اپنے سر میں ٹھونک لینا زیادہ بہتر ہے بجائے اس کے کہ وہ کسی غیر محرم کو چھوئے

[quads id=RndAds]

” ۔ (جامع صغیر) اور ہمارے پاس یہ المیہ ہے کہ چھونا تو چھوٹی بات ہے۔ یہاں پورا ہاتھ ہی ملا لیا جاتا ہے۔ ایک بار ایک خاتو ن جس کو شریعت کا علم نہیں تھا وہ مدینہ آپ ﷺ سے بیعت لینے آئی اور آپﷺ کے آگے اپنا ہاتھ بڑھایا آپ ﷺ نے فوراً اپنے ہاتھ پیچھے کر لیے اور فرمایا!”محمد ﷺ کسی عورت کے ہاتھ کو چھونا تو دورکسی عورت کے ننگے ہاتھ کو دیکھنا بھی پسند نہیں کرتا۔اور آپﷺ نے اپنا چہرہ مبارک پھیر لیا۔”اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ آللہ ہمیں دین اور شریعت کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے

بھی پڑھیں۔رات کو سونے سے پہلے اللہ تعالٰی کے اس بابرکت نام اسم مبارک کی تلاوت کریں۔ آپ کو ایسی جگہ سے رزق ملے گا جس کا آپ کو وہم تک نہیں ہوگا۔یہ

مزید پڑھیں۔کیا آپ جانتے ہیں کہ پیدائش کے بعد مکڑی اپنے باپ کو کیوں مار دیتی ہے؟مکڑی کے بچے جب بڑے ہوجاتے ہیں تو وہ اپنی والدہ کے ساتھ کیا کرتے ہیں؟ ایمان افروز تحریر

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں