حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ 307

حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کےپاس ایک آدمی آیا اور کہا کے مجھے رات کو صیح نیند نہیں آتی

حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کےپاس ایک آدمی آیا اور کہا کے مجھے رات کو صیح نیند نہیں آتی

حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس ایک شخص آتا ہے اورعرض کرتا ہے۔ اے علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ مجھے رات کو نیند ٹھیک سے نہیں ہے آتی رات کو سو نہیں ہو پاتا اور صبح جب اٹھتا ہوں تو پورے جسم میں درد سا رہتا ہے اور وہ درد بڑھتا رہتا ہے جب وہ اپنا درد حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کو بیان کر چکا تو تو انہوں

[quads id=RndAds]

نے اس شخص سے فرمایا کے اے شخص اگر تم رات کو پانی پیتے ہو تو پانی پینا بند کر دو کیونکہ ایسا کرنا سخت کے لئے انتہائی نہ مناسب ہے کیونکہ رات کو پانی پینے سے جسم میں ایسا دردشروع ہوجاتا ہے اگر اللہ پاک اسے شفاء دینا چاہیں تو دے سکتا ہے ورنہ

اس کا علاج نا ممکن ہےمیرے دوستو میری بہنو میرے بھائیو پانی جسم کے لئے ایک بہت اہم چیز ہے جب ہم مناسب مقدار میں پانی نہیں ہے پیتے تو ہمارے جسم سے پانی خشک ہو جاتا ہے اور اکثر رات کے وقت ہمیں پانی کی پیاس زیادہ لگتی ہے

[quads id=RndAds]

ہمیں رات کے وقت پانی کی ضرورت زیادہ محسوس ہوتی ہے اور اکثر لوگ رات کو نیند سے اٹھ کر پانی پیتے ہیں اس کا نقصان کیا ہوتا ہے رات کو اٹھ کر پانی پینے سے اب میڈیکل بھی اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ رات کے وقت پانی پینے سے گریز کرناچاہیئے کس وجہ سے تین بڑی وجوہات ہے ایک تو یہ ہے کہ بستر پر جانے سے قبل پانی کا استعمال نیند کو متاثر کرتاہے اور اس عادت کے نتیجے میں رات کو پیشاب کے لئے بار بار اٹھنا پرتا ہے

انسان گرم بستر سے ایک دم واشروم جاتا ہے تو جسم ٹھنڈا پر جاتا ہے اس سورت میں بھی اٹھنا سخت کے لئے نقصان دہ ہے۔اور دوسری بری وجہ یہ ہے کہ اس کا تعلق گردوں کے ساتھ ہے آپ سب جانتے ہی ہوں گے کہ رات کو گردے اپنے کام میں بہت آہستہ ہو جاتے ہیں یہی وجہ ہے کہ کچھ افراد کے صبح اٹھنے پر چہرے اور ہاتھ پائوں سوجن کا شکار ہوتے ہیں رات کو سونے سے قبل پانی پینا ایسے افراد کے لئے یہ مسئلہ بڑھا سکتا ہے۔

[quads id=RndAds]

اور تیسری بری وجہ اگر آپ سونے سے قبل پانی پیتے ہیں تو یہ آپ کی نیند میں مداخلت کا سبب بنتا ہے وزن کم کرنے کے لئے پانی کی طرح

نیند بھی ایک اہم چیز ہے اور میڈیکل سائنس یہ کہتی ہے کہ چھ سے آٹھ گھنٹے نیند ہماری زندگی میں واقع ایک تبدیلی لا سکتی ہے سائنس کے مطابق وہ لوگ جو کم سوتے ہیں اور وہ لوگ جو زیادہ نیند لیتے ہیں ان کے وزن بڑھنے کے خطرات بڑھ جاتے ہیں کھڑے ہو کر پانی پینا اخلاقیات کے خلاف سمجھا جاتا ہے،اور اس حوالے سے اب ماہرین بھی بہت سے مشورہ دے رہے ہیں۔

ہربل ماہرین کےمطابق کھڑے ہو کر پانی پینے سے نہ صرف ہماری نسیں کھنچائو پیدا ہو تا ہے بلکہ کھڑے ہو کر پانی پینے سے آپ کے پینے کی رفتار تیز ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے جوڑوں کو نقصان پہنچتا ہے۔ ہربل ماہرین کےمطابق کھڑے ہو کر پانی پینے سے نہ صرف ہماری نسیں کھنچائو پیدا ہو تا ہے بلکہ کھڑے ہو کر پانی پینے سے آپ کے پینے کی رفتار تیز ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے جوڑوں کو نقصان پہنچتا ہے۔

[quads id=RndAds]

ماہرین کے مطابق جس طریقے سے ہم آہستہ آہستہ کھانا کھاتے ہیں اسی طرح آرام سے پانی بھی بیٹھ کر اور آہستہ آہستہ پینا چاہیئے۔ جلدی جلدی پانی پینے سے جسم میںآکسیجن کی کمی ہو جاتی ہے جس سے دل اور پھیپھڑوں کے مسائل پیدا ہو جاتے ہیں۔ اس لیے ماہرین ہمیں اپنی صحت کا خیال رکھتے ہوئے بیٹھ کر سکون سے پانی پینے کا مشورہ دیتے ہیں۔نظام ہاضمہ کے افعال متاثر کرے جسم کھڑے ہوکر پانی پیا جاتا ہے تو یہ معدے کی دیوار سے ٹکراتا ہے

اور لہر کی شکل میں نیچے جاتا ہے، یہ لہر معدے کی دیوار، ارگرد موجود اعضاءاور غذائی نالی پر منفی اثرات مرتب کرسکتی ہے، طویل مدت تک اس مشق کو اپنانا نظام ہاضمہ کے افعال متاثر کرسکتا ہے۔ گردوں کا کام جسم میں موجود زہریلے مواد کی صفائی ہے اور یہ عادت اسے متاثر کتی ہے، جس کے نتیجے میں مختلف مسائل پیدا ہونے کا خطرہ ہوتا ہے یعنی گردوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے

[quads id=RndAds]

یا پیشاب کی نالی کی سوزش کا شکار ہوسکتی ہے۔ اس طرح پانی پینا غذائی نالی کو متاثر کرتی ہے جس سے معدے میں تیزابیت کی شکایت کا امکان بڑھ جاتا ہے جو آگے بڑھ کر سینے میں جلن یا السر وغیرہ کا باعث بھی بن سکتا ہے۔

پیاس نہیں بجھتی ماہرین کے مطابق کبھی کبھار کھڑے ہوکر پانی پینے میں کوئی برائی نہیں یا نقصان نہیں ہوتا مگر اس عادت بنالینے سےگریز کرنا چاہئے، اس عادت کے نتیجے میں پیاس کی بھی صحیح معنوں میں تشفی نہیں ہوتی۔

یہ بھی پڑھیں۔زنا کیا ہے؟ زنا کی کتنی قسمیں ہیں اور زنا کرنے سے کون کون سے بیماریاں پھیلتی ہیں

یہ بھی پڑھیں۔میاں بیوی کے تعلقات میں وہ گناہ جسے ہم گناہ ہی نہیں سمجھتے۔

یہ بھی پڑھیں۔ایک بار ایک مسیحی بادشاہ نے کچھ سوالات لکھ کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجے اور مطالبہ کیا کہ ان کے جوابات آسمانی کتابوں کے مطابق دیئے جائیں۔ ان میں سے ایک سوال یہ تھا کہ “دنیا میں کون سی ایسی جگہ ہے جہاں سورج کی کرنیں قیامت کے دن سے شروع تک صرف ایک بار لگیں نہ پہلے کبھی لگیں اور نہ پھر کبھی لگیں گی۔؟

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں