black magic 133

بادشاہ اور نوجوان کاواقعہ مزید تفصیلات کے لیئے لنک پر کلک کریں

حضرت صہیب الرومی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا”تم سے پہلے لوگوں میں ایک بادشاہ گزرا ہے ،اس کے پاس ایک جادوگر تھا ۔جب وہ جادوگر بوڑھا ہوگیا تو اس نے بادشا ہ سے کہا کہ میں بوڑھا ہوگیا ہوں مجھے ایک ہوشیار لڑکا دیا جائے جسے میں جادو کا علم سیکھا سکوں ۔ چنانچہ بادشاہ نے اس کو ایک لڑکا جادو کا علم سیکھنے کے لیئے دے دیا۔ اس کے راستے میں ایک عیسائی /پادری رہتا تھاوہ لڑکا اس کے پاس آنے جانے لگا۔اور اس کو راہب کی باتیں اچھی لگنے لگی جب بھی ساخرکے پاس جانے کے لیئے نکلتا تو اس راہب کے ہاں ضرور جاتا اور اس کی صحبت میں بیٹھتااور جب ساحر کے پاس پہنچتا تو وہ اسے دیر سے آنے پر مارتالڑکے نے راہب سے اس بات کی شکایت کی تو راہب نے کہا جب تجھے ساحر سے کوئی خطرہ ہو تو کہہ دیا کرو کے میرے گھر والوں نے مجھے روک لیا تھا اور جب گھر والوں سے ڈر ہوتو انہیں کہہ دینا کے مجھے ساحر نے روک دیا تھا۔سلسہ یونہی چلتا رہا ایک دن اس لڑکے نے دیکھا کے کسی بڑے چوپایہ نے لوگوں کا راستہ روک رکھا ہے اس نے کہا کے آج معلوم ہوگا کے ساحر افضل ہے کے راہب ؟
چنانچہ اس نے ایک پتھر ہاتھ میں لے کر دعا کی کے اےاللہ !اگر راہب کا دین سچا ہے تو یہ جانور میرے پتھر سے مارا جائے تا کہ لوگوں کو گزرنے کا راستہ مل سکے۔یہ کہہ کر اس نے وہ پتھر مارا اور وہ جانور ہلاک ہوگیا۔اور لوگوں کو گزرنے کا راستہ مل گیا۔

مزید پڑھیں:کالا جادو ہے کیا؟ کالے جادو میں سر کے بال کیوں استعمال کیئے جاتے ہیں ؟؟؟ کالے جادو سے بچنے کی اختیاطی تدابیر


لڑکے نے آکر راہب کو سارا واقعہ بتایا تو راہب نے اس سے کہا کے اے بیٹے آج سے تو مجھ سے افضل ہے ۔میں دیکھ رہا ہوں کہ تو اپنے کام میں انتہا کو پہنچ چکا ہے اور عنقریب تو ایک آزمائش سے دوچار ہو گا۔اگر تو کسی آزمائش میں مبتلا ہوا تو کسی کو میرا نہ بتانا وہ لڑکا پیدائشی اندھے اور برص کے مریضوں کو ٹھیک کر دیتا تھا۔اور لوگوں کا دیگر امراض میں بھی علاج کرتا تھا۔بادشاہ کے ایک مصاحب نے اس کے متعلق سنا جو کے نابیناتھا تو بہت سے ہدیے اور تحفے لے کر اس کے پاس آیا اور اس سے کہا اگر تو مجھے شفا ء دے دے تو یہ سب کچھ تیر ے لیئے ہوگا۔لڑکے نے کہا میں کسی کو شفاء نہیں دیتا شفاء تو اللہ تعالیٰ ہی دیتے ہیں۔
اگر تو اللہ پر ایمان لانے کا وعدہ کرتا ہے تو میں اللہ سے دعا کروں گا وہ تجھے شفاء دے گا۔
وہ آدمی ایمان لے آیا اور اللہ نے اس کو شفاء دے دی پھر وہ اپنے بادشاہ کے پاس آیا اور اس کے پاس اسی طرح بیٹھا جیسے پہلے بیٹھا کرتا تھا۔بادشا ہ نے اس سے پوچھا کے یہ تیری بینائی کس نے لوٹائی اس نے کہا میرے رب نے میری بینائی لوٹائی ہے۔


بادشاہ نے کہا کیا میرے سوا ء بھی تیرا کوئی رب ہے؟اس نے کہا ہاں میرا اور تمھارا رب اللہ ہے بادشاہ نے اس کو پکڑا اور اس کو برابر سزا دیتا رہا یہاں تک کے اس نے بادشاہ کو لڑکے کا پتہ بتا دیا۔چنانچہ لڑکے کو لایا گیا۔بادشاہ نے اس سے پوچھا کے اے بیٹے تم اپنے سحر میں اس کمال کو پہنچ گئے ہو کے پیدائشی اندھے اور برص کے مریضوں اور دوسرے لاعلاج مریضوں کو ٹھیک کر دیتے ہولڑکے نےجواب دیا میں کسی کو شفاء نہیں دیتا شفاء اللہ تعالیٰ ہی دیتے ہیں۔بادشا ہ نے اس کو پکڑا اور سخت سزا دی حتیٰ کے اس نے راہب کا پتہ بتادیاچنانچہ راہب کو لایا گیا۔اور اس سے کہا گیا کے تو اپنے دین سے پھر جا اس نے انکار کیا بادشاہ نے ایک آراء منگوایا اور اس کے سر بیچ میں رکھ کر اس کو چیر دیااور اس کے دو ٹکڑےزمیں پر گر پڑئے۔
پھر بادشاہ کے پاس مصاحب کو لایا گیا بادشا ہ نے اس کو بھی اپنے دین سے پھرنے کا حکم دیا۔اس نے بھی انکار کیا اور اسے بھی چیر دیا گیا۔پھر اس لڑکے کو لایا گیا پھر اس کو بھی دین سے پھر جانے کا حکم دیا گیا ۔لڑکے نے بھی انکار کیا تو پھر بادشا ہ نے اس کو اپنی ایک جماعت کے حوالے کیا ۔کے اسے فلاں پہاڑ پر لے جائو اور اسے اوپر چڑھائو جب پہاڑ کی چوٹی پر پہنچ جائے تو دیکھو اگر یہ اپنے دین سے پھر جائے تو اسے چھوڑ دو ورنہ اسے وہاں سے گرا دو۔


چنانچہ وہ لوگ اس لڑکے کو لے گئے اور پہاڑ سے گرانے لگے تو لڑکے نے کہا اے اللہ تو مجھے ان لوگوں سے بچا جیسے تو چاہتا ہے وہ پہاڑ ہلنے لگا اور وہ سارے اس سے گر کر ہلاک ہوگئے۔اور لڑکا صیح سالم بادشا ہ کے پاس چلا آیابادشا ہ نے اس سے ان لوگوں کے متعلق پوچھا کے وہ کہاں رہ گئے لڑکے نے کہا کے اللہ تعالیٰ نے مجھے ان کے شر سے محفوظ رکھا۔بادشاہ نے پھراس کو ایک جماعت کے حوالے کیا اور کہا کے اسے سمندر کے بیچ لے جائو اگر یہ اپنے دین سے باز آ جاتا ہے تو اسے چھوڑ دو ورنہ اسے سمندر میں غرق کردو سمندرمیں لڑکے نے دعا کی اے اللہ اپنی قدرت سےمجھے ان لوگوں کے شر سے محفوظ فرما۔چنانچہ وہ کشتی ہی الٹ گئی سب غرق ہوگئے اور لڑکا صیح سالم واپس چلا آیا بادشاہ نے پوچھا تیرے اصحاب کا کیا ہوا۔اس نے کہا اللہ تعالیٰ نے مجھے ان کے شر سے محفوظ رکھا پھر اس لڑکے نے خود ہی کہا اے بادشاہ تومجھے قتل نہیں کروا سکتا جب تک تو میری بات پر عمل نہیں کرئے گا۔


بادشاہ نے کہا کے وہ کیا بات ہے لڑکے نے کہا ایک کھلےمیدان میں لوگوں کو جمع کرو اور مجھے کھجور کے ایک تنے پر لٹکائو پھر میرے ترکش سے ایک تیر لو اور پھر اس کو کمان کے بیچ میں رکھ کر بسم اللہ کہہ کر چلائو اس طرح میں مر جائوں گا۔چنانچہ بادشاہ نے ایک وسیع میدان میں لوگوں کو جمع کیا اور اس کو کھجور کے تنے پر لٹکایا پھر اس کے ترکش سے تیر نکال کر اس کی کمان کے بیچ میں رکھ کر کہا بسم اللہ رب الغلام پھر اس تیر کو چلایا اور تیر سیدھا جا کر اس کی کن پٹی پر جا کر لگااس نے اپنا ہاتھ کن پٹی پر رکھا پھر مر گیا۔

مزید پڑھیں:دو پراٹھے۔ایک انتہائی ایمان افروز واقعہ جو آپ کی زندگی بدل کر رکھ دے


اس واقع کو دیکھ کر یک لخت لوگوں کی زبان سے نعرہ بلندہوا ہم سب رب الغلام کے رب پر ایمان لاتے ہیں کسی نے بادشاہ کو بتایا کے جس واقعے کا خطرہ تھا وہ واقعہ ہوگیا۔لوگ ایمان لے آئے بادشاہ بڑا پریشان ہوا اور ارکان سلطنت سے مشاورت کے بعد بڑی بڑی خندقیں آگ سے بھروا کر حکم دیا جو شخص اپنے دین سے نہیں پھرے گا اسے آگ میں جلادو بہت سے لوگ جلا دیئے گئےاس دوران ایک عورت جس کی گود میں ایک بچہ تھا اس کو آگ میں گرنے سے تھوڑی ہچکچاہٹ ہوئی تو چھوٹا بچہ بولا اماں جان صبر کرو کیوں کے آپ حق پر ہو۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں