kohe noor 88

کوہ نور ہیرے کی اصل کہانی ہے کیا اورپوری دنیاکی نظریں اس ہیرے پر ہی کیوں ہیں

اسلام آباد (سکائی اُردونیوز)کوہِ نور دنیا کا مشہور ترین ہیرہ ہے ، یہ ہیرہ اس وقت تاج برطانیہ کی زینت ہے اور ملکہ برطانیہ کے تاج کا حصہ ہے۔ کوہ نور روشنی کے پہاڑ کو کہتے ہیں اور یہ نام ایرانی حکمرانوں نے اس ہیرے کا رکھا تھا۔ تیرویں صدی میں کوہ نور جنوبی بھارت کے علاقے گولکنڈہ سے ملا تھا اور مختلف ادوار میں کئی راجے مہاراجے نسل در نسل اس ہیرے کے وارث بنے۔

اسلامی تاریخ کے مطابق ابراہیم لودھی کی والدہ کو اس ہیرے کا علم ہوا تھا، بیگم نے مغل شہزادے ہمایوں کو نذرانے میں دیا اور اس طرح یہ ہیرا دہلی کے مغل بادشاہوں کے پاس رہا،
روایات کے مطابق اس ہیرے کو چار ہزار سال پہلے بھارتی ریاست آندھرا پردیش کی ایک کان سے نکالا گیا تھا، یہ ہیرا جنوبی ہندوستان کے کاکیتیہ خاندان کے حکمرانوں کی ملکیت بھی رہا، مگر بعد میں ریاستوں کے درمیان جنگ و جدل کے دوران مختلف راجوں کے ہاتھوں سے ہوتا ہوا سولہویں صدی عیسوی میں سلطان ابراہیم لودھی کے پاس پہنچا۔ 1526 میں پانی پت کی لڑائی میں فتح کے بعد پہلے مغل شہنشاہ ظہیرالدین بابر تک پہنچا۔ مغلیہ دور کے زوال کے دنوں میں ایرانی بادشاہ نادر شاہ تخت طاؤس کے ساتھ یہ ہیرا بھی لے گیا۔

نادر شاہ کے قتل کے بعد ہیرا افغانستان کے بادشاہ احمد شاہ ابدالی کے پاس رہا، جس کے بعد مہاراجہ رنجیت سنگھ کے دور میں تخت لاہور کو مل گیا۔سال 1849 میں برطانیہ کے پنجاب پر قبضہ کے بعد انگریزوں نے ہیرا راجہ رنجیت سنگھ کے نابالغ پوتے دلیپ سنگھ سے ہتھیایا، پہلے یہ لاہور میں برٹش انڈیا کمپنی کے خزانے میں جمع کرادیا گیا، بعد میں برطانیہ بھجوا دیا گیا۔۔

یہ ہیرا 1953 میں برطانیہ کی ملکہ الزبتھ دوم کی تاج پوشی کے موقع پر ان کے تاج میں جڑ دیا گیا۔تقسیم ہندوستان کے بعد سے پاکستان اور بھارت ، برطانیہ سےکوہ نور ہیرے کی واپسی کا مطالبہ کرتے آرہے ہیں..
1976 میں پاکستان کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے اُس وقت کے برطانوی وزیراعظم جیمز کالاہان سے مطالبہ کیا تھا کہ کوہِ نور ہیرا پاکستان کو لوٹایا جائے لیکن انہوں نے حامی نہیں بھری تھی۔سال 1997 میں برطانیہ کی ملکہ بھارت کی آزادی کی پچاسویں سالگرہ پر نئی دہلی ٓمیں آٗئیں تو بھارتیوں کی بہت بڑی تعداد نے ہیرے کی واپسی کا مطالبہ کہا۔ پاکستان اور بھارت کے علاوہ افغانستان اور ایران بھی اس قیمتی پتھر کے دعویدار رہے ہیں۔

انگریزوں کے پاس جانے سے پہلے ہیرے کا اصل وزن 37 گرام تھا ۔ تاہم برطانیہ کی طرف سے اس ہیرے کو بہتر شکل میں لانے اور چمک دھمک میں اضافے کے لئے اس کا سائز کچھ مختصر کردیا گیا ہے۔
موجودہ صورت میں 105 قیراط کا ہیرا 21 گرام کا رہ گیا ہے، دیگر ہیروں کی طرح کوہ نور کے ساتھ بھی کئی روایات اور کہانیاں وابستہ ہیں، کہا جاتا ہے کہ یہ ہیرا مردوں کے لئے نحوست اور موت کا باعث بنا ہے جبکہ عورتوں کے لئے خوش بختی کا سبب رہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں