dollar 218

ڈالر مہنگا ہونے سے پاکستانی کا قرضہ کتنا بڑھ گیا ۔تشویشناک خبر

کراچی (سکائی اُردونیوز) ایک ہفتےکےدوران انٹربینک میں ڈالر 7 روپے 60 پیسےمہنگا ہو ا جبکہ اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قدر میں سات روپے تیس پیسے اضافہ دیکھنے کو ملا، ڈالر کے داموں میں اس اضافے کی وجہ سے پاکستان کے بیرونی قرضوں میں 800 ارب روپےاضافہ ہوگیا جبکہ سٹاک ایکسچینج گرنے سے کاروباری برادری کے 315 ارب روپے ڈوب گئے ۔

نجی ٹی وی چینل نے مارکیٹ ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ ایک ہفتےکےدوران ڈالرکی قیمت میں 5.4 فیصداضافہ ہوا اور انٹربینک میں ڈالرتاریخ کی بلندترین سطح 149 روپےپربندہوا۔ اسی طرح گزشتہ ایک کاروباری ہفتےکےدوران اوپن مارکیٹ میں ڈالر 7 روپے 30 پیسےبڑھا اور یہ تاریخ کی بلندترین سطح 151 روپےپرفروخت ہوتا رہا۔

دوسری طرف سٹاک مارکیٹ میں مسلسل مندی کے بعد حکومت حرکت میں آگئی تاہم اس کا بھی کوئی اثر دیکھنے کو نہیں ملا۔ ذرائع کے مطابق گورنر ہاؤس کراچی میں گزشتہ دور روز میں مسلسل مشیرخزانہ حفیظ شیخ اور پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے ایک وفد کے درمیان ملاقات ہوئی جس میں بڑے بروکرز شامل تھے، مشیر خزانہ نے مارکیٹ کو سنبھالنے کے تمام اقدامات کی منظوری دے دی۔اس دوران بروکرز نے مشیر خزانہ کو کچھ تجاویز پیش کیں جسے انہوں نے قبول کرلیا۔ذرائع کے مطابق اسحاق ڈار کو مصنوعی طریقے سے ڈالر کی قدر روکنے کے طعنے دینے والوں نے مارکٰیٹ کو سہارا دینے کے لیے نیشنل انویسمنٹ ٹرسٹ کے ذریعے 20 ارب روپے کا فنڈ بھی فراہم کرنے کا عندیہ دیا، حکومت کے اس اقدام سے مارکیٹ کو سہارا ملے گا۔

گزشتہ 9 ماہ میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں 10 ہزار پوائنٹس کی کمی واقع ہوئی جس سے سرمایہ کاروں کے 1892 ارب روپے ڈوب گئے۔رواں ہفتے کاروباری دن کے آخری روز بھی 100 انڈیکس میں 804 پوائنٹس کی کمی رہی اور پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو 33 ہزار 166 پر بند کردیا گیا جبکہ کاروباری براداری کے 315 ارب روپے ڈوب گئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں