f 16 179

عوام کو سحری میں جگانے کیلئے لڑاکا طیاروں کا استعمال

انڈونیشی اخبار جکارتہ پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق ٹوئٹ میں کہا گیا کہ ’انشا اللہ، ہم جنگی جہازوں کا استعمال کرتے ہوئے لوگوں کو سحری کے لیے جگانے کی روایت پر عمل کرتے رہیں گے‘۔
دوسری جانب ایئر فورس کے ترجمان کرنل سیس ایم یورث نے کہا کہ ’اس مشن کا مقصد محض روایت برقرار رکھنا نہیں بلکہ اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ فضائیہ کے اہلکاروں کو رمضان (روزے) کے درمیان تربیت نہ دی جائے‘۔
واضح رہے کہ صبح صادق کا وقت جنگی جہاز اڑانے کے لیے بہترین ہے، طبی ماہرین صبح 10 بجے تک اور اس کے بعد تربیت دینے کے خلاف ہیں جب روزہ رکھنے والوں کے خون میں شکر کی سطح گرنا شروع ہوجاتی ہے۔

فضائیہ ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ ’لڑکا طیاروں کے پائلٹس کو اس وقت طیارہ اڑانے سے منع کیا جاتا ہے جب وہ ایسی حالت میں ہوں کہ ان کے خون میں شکر کی سطح کم ہو‘۔
انہوں نے مزید بتایا کہ یہ مشترکہ مشن ہے جس میں پائلٹس کو تربیت دینے کے ساتھ ساتھ لوگوں کو سحری کے لیے بھی جگایا جائے گا۔
اس دوران لڑاکا طیارے نچلی سطح پر پرواز کرتے ہوئے آسمان میں اڑان بھریں گے اور پائلٹ آفٹر برنرز(طیاروں کے پچھلے حصے سے نکلنے والی آگ) کا استعمال کریں گے جس سے آواز پیدا ہوگی۔
خیال رہے کہ صبح صادق کے وقت تربیت دینے کا یہ عمل انڈونیشیا کی فضائیہ نے کئی سال پہلے شروع کیا تھا جس میں زیادہ تر ایف-16 اور T50i طیاروں کا استعمال کیا جاتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں