71

تائیوان میں قانون سازوں نے ہم جنس پرستوں کی شادی کے حق میں ووٹ دے کر اسے قانونی قرار دے دیا۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی ‘اے پی کے مطابق تائیوان کے قانون سازوں کو ایک عرصے سے ہم جنس پرستوں اور خواجہ سراؤں کے گروپوں کی جانب سے اس حوالے سے دباؤ کا سامنا تھا، جبکہ اس اقدام کی مخالفت کرنے والے گرجا گھروں کی تنظیموں نے بھی حکومت کے حمایت یافتہ اس بل کی منظوری دی۔

بل کے ذریعے ہم جنس پرستوں کی شادی کو تسلیم کیا گیا جس کے بعد انہیں بھی مرد و خواتین کے شادی شدہ جوڑوں کی طرح ٹیکس، انشورنس اور بچوں کو تحویل میں لینے جیسے کئی فوائد حاصل ہوں گے۔

اس بل کی منظوری کے بعد تائیوان، ہم جنس پرستوں کو شادی کی اجازت دینے والا پہلا ایشیائی ملک بن گیا۔

تائیوان کے صدر سائی اِنگ وین نے، جو اس قانون کے حامی ہیں، ٹویٹ کیا کہ ’17 مئی 2019 کو تائیوان میں محبت جیت گئی، ہم نے حقیقی برابری اور تائیوان کو بہتر ملک بنانے کی طرف بڑا قدم رکھ دیا ہے۔

بل پر ووٹنگ سے قبل ہم جنس پرست جوڑوں سمیت ہزاروں افراد نے جمعہ کی صبح پارلیمنٹ کے باہر مظاہرہ کیا، جن میں سے متعدد نے قوس قزح کے رنگ کے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر ‘ووٹ ناکام نہیں ہوسکتا تحریر تھا۔

واضح رہے کہ مئی 2017 میں تائیوان کی آئینی عدالت نے کہا تھا کہ ملک کا آئین ہم جنس پرستوں کی شادی کی اجازت دیتا ہے، جبکہ عدالت نے پارلیمنٹ کو دو سال کے اندر آئین کے مطابق اس حوالے سے قانون سازی کا حکم دیا تھا۔

چین اگرچہ تائیوان کو اپنا حصہ ہونے کا دعویٰ کرتا ہے لیکن وہاں خود اختیاری جمہوریت قائم ہے جہاں جنسی اور نسلی اقلیتوں، خواتین اور معذوروں کے حقوق کے فروغ کے لیے سول سوسائٹی بہت فعال ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں