99

بھارت پاکستانی ایکسپوٹرز کے ساتھ دشمنی پر اُتر آیا

سکائی اُردونیوز:تفصیلات کے مطابق پاکستان سے 10سے زائد ایکسپورٹرز نے16فروری2019کو 22کنٹینرز میں 62سینٹ فی کلو گرام کے حساب سے 10 لاکھ 56 ہزار میٹرک ٹن کھجور بھارت ایکسپورٹ کی تھی جس کی مالیت پاکستانی کرنسی میں 65کروڑ روپے سے بھی زائد تھی۔یہ مال 16فروری کو دوپہر12بجے سے پہلے پہنچ چکا تھا جبکہ اسی روز شام 6بجے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے حکم پرپاکستانی ایکسپورٹس کو نقصان پہنچانے کی خاطر پاکستان سے بھارت درآمد ہونے والی مصنوعات پر 200فیصد ڈیوٹی عائد کردی تھی اور اس اعلان سے پہلے بھارت پہہنچنے والے مال پر بھی اس اضافی ڈیوٹی کا اطلاق کردیا گیا۔پاکستان میں کھجور کی پیداوار کے سب سے بڑے مرکز خیرپورکے چیمبر آف کامرس کی بانی صدراورایف پی سی سی آئی کی سابق نائب صدرشبنم ظفر نے بھارتی کسٹمز حکام سے بارہا ملاقاتیں کرکے روکی گئی کھجور کی کلیئرنس کیلئے جدوجہد کی اور جب ایسا نہ ہوا تو انہوں نے اسے ری ایکسپورٹ کرنے کی بھی جدوجہد کی مگر بھارتی کسٹم حکام اپنی حکومت کی ایما پر پاکستان سے آنے والے سامان کو کسی بھی صورت میں کلیئرنس پر آمادہ نہ ہوئے۔

ایف پی سی سی آئی کے سابق صدر اور ٹڈاپ کے سابق چیف ایگزیکٹو ایس ایم منیر نے گورنر ہاؤس میں وزیراعظم کے مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ اور چیئرمین ایف بی آر شبرزیدی سے ملاقات کرکے انہیں تمام تر صورتحال سے آگاہ کیا اور بتایا کہ کھجور کے ایکسپورٹرز چھوٹے پیمانے پر کام کرتے ہیں اور اگر بھارت برآمد ہونے والی کھجور کو نیلامی سے نہ بچایا گیا اور وہ ری ایکسپورٹ نہ ہوئی تو یہ ایکسپورٹرز تین سال پیچھے چلے جائیں گے۔اس ضمن میں شبنم ظفر نے فیڈریشن ہاؤس میں چیف کلکٹر انفورسمنٹ(ساؤتھ زون) واصف علی میمن کو بھی سارا ماجرہ بیان کیا مگر دلچسپ بات یہ تھی کہ واصف علی میمن کو یہ بھی علم نہ تھا کہ پاکستانی کھجور بھارتی کسٹمز نے روک رکھی ہے بلکہ وہ یہ کہتے رہے کہ کھجور پاکستان کسٹم نے واہگہ بارڈر پر روک رکھی ہے۔
شبنم ظفر نے بتایا کہ میں اور پاکستانی کھجور کے دیگر ایکسپورٹرز 3ماہ سے زائد عرصہ سے پریشان ہیں لیکن ہماری حکومت بھی ہماری کوئی مدد نہیں کررہی اور اگر یہ مسئلہ حل نہ ہوا تو کئی ایکسپورٹرز مالی بحران کا شکار ہوکرسڑکوں پر آجائیں گے۔انہوں نے بتایا کہ دوروزقبل بھارتی امپورٹرز نے پاکستان سے برآمد ہونے والی کھجور کی نیلامی کے خلاف 15دن کیلئے بھارتی عدالت سے حکم امتناعی لے لیا ہے جس سے نیلامی وقتی طور پر ٹل گئی ہے۔ انکا مزید کہنا تھا کہ انہوں نے8مئی کو بھارتی کسٹم حکام سے مال کی کلیئرنس کے حوالے سے ملاقات کی تھی اور ہمیں بھارتی کسٹم افسران نے کہا کہ پاکستان حکومت یہ مال واپس لینے کو تیار نہیں ہے لیکن پاکستانی کسٹم افسر میڈم طاہرہ نے ہمیں بتایا کہ اگر بھارت یہ کھجور ری ایکسپورٹ کرے تو ہم یہ مال واپس لینے کو تیار ہیں مگر بھارت یہ مال نیلام کررہاہے اس طرح بھارتی کسٹمز حکام نے بھارتی حکومت کی خواہش کے مطابق پاکستانی ایکسپورٹرز کو کروڑوں روپے نقصان پہنچانے کی پلاننگ کرلی ہے۔

شبنم ظفر نے کہا کہ بھارت کو کھجور کی ایکسپورٹ بند ہوے سے سٹاک میں موجود کھجور بھی خراب ہونے کا خدشہ ہے کیونکہ پاکستان سے80فیصد کھجور بھارت ایکسپورٹ ہوتی ہے،اگر یہ مسئلہ جلد حل نہ ہوا تو ایکسپورٹرز کومارکیٹ سے پرچیوں پر اٹھائے ہوئے ادھار مال کی ادائیگی بھی مشکل ہوجائے گی اورنقصان کا تخمینہ اربوں روپے تک پہنچ جائے گا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں